ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / دہلی حکومت کی ہدایت، ای وی ایم کی جگہ بیلٹ پیپر سے ایم سی ڈی انتخابات کروائیں

دہلی حکومت کی ہدایت، ای وی ایم کی جگہ بیلٹ پیپر سے ایم سی ڈی انتخابات کروائیں

Tue, 14 Mar 2017 19:22:32    S.O. News Service

نئی دہلی، 14/مارچ (ایس  او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنی حکومت کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ دہلی حکومت ای وی ایم کی جگہ بیلٹ پیپر سے ایم سی ڈی انتخابات کرائیں۔دہلی کے وزیر اعلی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ میونسپل انتخابات ای وی ایم  کی جگہ بیلٹ پیپر سے کرائے جائیں،اس لیے آج شام تک اس کے لیے جو بھی کاروائی ہیں وہ پوری کی جائیں اور کارپوریشن انتخابات بیلٹ پیپر سے کرائے جائیں۔غورطلب ہے کہ دہلی حکومت ہی ایم سی ڈی انتخابات کراتی ہے، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ دہلی حکومت کی اس ہدایت پر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ پنجاب اور گوا میں مطلوبہ کامیابی نہ ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی نے ای وی ایم یعنی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر شک ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بیلٹ پیپر سے انتخابات کرائے جائیں۔عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے کہا کہ یوپی میں بھی میونسپل اور شہری پنچایت کے انتخابات بیلٹ پیپر سے ہوتے ہیں، دہلی ایم سی ڈی کے انتخابات بھی بیلٹ پیپر سے کرائے جا سکتے ہیں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ پنجاب الیکشن جیتنے والی کانگریس کو بھی وی ایم پر شک ہے، بی ایس پی کو بھی شک ہے اور دوسری پارٹیوں بھی شک ہے، یہی نہیں بی جے پی جب تک اپوزیشن میں تھی،تب تک اس کے لیڈر اور حامی ای وی ایم سوال اٹھاتے تھے تو ایسے میں بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے میں کیا حرج ہے؟واضح رہے کہ پنجاب انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو 117میں سے 22سیٹیں ملی ہیں، جبکہ گوا میں 40سیٹوں میں سے ایک بھی سیٹ پر اس کو  جیت نہیں ملی اور اس کے وزیر اعلی کے امیدوار تک انتخابات ہار گئے، جس کے دو دن بعد عام آدمی پارٹی کے لیڈرای وی ایم سے ہونے والے انتخابات پر سوال اٹھا رہے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ہفتہ کو ای وی ایم پر سوال اٹھا کر دوبارہ بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرچکی تھیں،جس کو الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا تھا۔قابل ذکرہے کہ لالو پرساد یادو نے بھی ای وی ایم پر شک کا اظہار کیا ہے۔
 


Share: